کابل،6؍مارچ(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)اتوارکی رات عسکریت پسندوں کی طرف سے پاک افغان سرحد پر کیے جانے والے ایک حملے کے نتیجے میں کم ازکم پانچ پاکستانی فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ جوابی کارروائی میں دس عسکریت پسندوں کو بھی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیاگیاہے۔پاکستان آرمی کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق افغانستان کی طرف سے داخل ہونے والے دہشت گردوں نے پاکستان کے شمال مغرب میں واقع مہمند ایجنسی میں تین چیک پوسٹوں پر حملہ کیا۔ تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ حملہ پاکستانی طالبان کے کس گروپ کی طرف سے کیا گیا ہے۔ آزاد ذرائع سے ان فوجی دعووں کی تصدیق ممکن نہیں ہے کیوں کہ ان علاقوں میں صحافیوں کی موجودگی نہ ہونے کے برابرہے۔جاری ہونے والے بیان کے مطابق پاکستانی فوج کی موثر موجودگی اور مناسب جوابی کارروائی کی وجہ سے دہشت گردوں کا یہ حملہ پسپا کر دیا گیا ہے۔ فوج کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان کے ’فوجیوں کی قربانیوں کی تعریف‘ کی ہے اورسرحدپرفوجیوں کی تعدادبڑھانے کا کہا ہے۔پاکستان نے دو ہفتے قبل دہشت گردانہ حملوں کے بعد افغانستان سے ملحق اپنی سرحدیہ کہتے ہوئے بند کر دی تھی کہ دہشت گرد افغانستان سے پاکستان کے اندر داخل ہو رہے ہیں۔جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق پاکستان حکومت کی طرف سے تواتر کے ساتھ یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ افغان حکومت ملک میں پاکستانی طالبان کو پناہ دیے ہوئے ہے۔ پاکستانی طالبان کی ایک بڑی تعداد اس وقت افغانستان کی طرف فرار ہو گئی تھی، جب پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ان کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ دوسری جانب کابل حکومت کا بھی یہی دعویٰ ہے کہ پاکستانی عسکریت ان کے ملک میں آ کر طالبان کے ساتھ مل کر ان کے خلاف لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پاکستانی فوج افغان سرحد کے اندر گولہ باری کرتے ہوئے وہاں موجود عسکریت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنا چکی ہے۔ اس گولہ باری کے بعد کابل حکومت کی طرف سے ملک میں تعینات پاکستانی سفیر کو طلب کرتے ہوئے احتجاج بھی کیا گیا تھا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا، ’’ دہشت گرد ایک مشترکہ خطرہ ہیں اور انہیں سرحد پار کرنے کی آزادی نہیں دی جانی چاہیے۔‘‘پاکستانی آرمی چیف نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ افغان سرحد کے اندر بھی پاکستانی فوجیوں کی موجودگی کی ضرورت ہے۔